ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ٹکٹ فروخت کے الزامات پر بولے اوپیندر کشواہا،سی بی آئی کرے میری جانچ

ٹکٹ فروخت کے الزامات پر بولے اوپیندر کشواہا،سی بی آئی کرے میری جانچ

Wed, 13 Mar 2019 21:33:57    S.O. News Service

پٹنہ،13 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات سے پہلے ملک میں سیاست چھا گئی ہے اور ہر طرف بیان بازی کے ساتھ ساتھ الزام تراشیوں کا کھیل شروع ہو گیا ہے۔راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آرایل ایس پی) کے قومی صدر اور سابق مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا نے خود کے خلاف سی بی آئی جانچ کا مطالبہ اٹھایا ہے؟ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ ایسا کیا ہو گیا کہ سابق مرکزی وزیر کو خود کے خلاف ہی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ اٹھانا پڑا ہے؟۔دراصل منگل کو قومی لوک سمتا پارٹی کے سابق ایم پی ناگمنی اور پردیپ مشرا پارٹی کا دامن چھوڑ کر جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد ایک ایک کر کے انہوں نے اوپیندر کشواہا پر بدعنوانی کے سنگین الزامات بھی جڑ دئے تھے۔2014 میں لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کے ساتھ رہے کشواہا نے اس بار پارٹی بدل لی ہے اور وہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، کانگریس اور جتن رام مانجھی کی پارٹیاں مل کر جے ڈی یو، بی جے پی اور ایل جے پی کی این ڈی اے کو ٹکر دے رہے ہیں۔سب سے پہلے ناگمنی نے اوپیندر کشواہا کے اوپر پارٹی کے پیسے کی دھاندلی کا الزام لگایا اور اس کے بعد پردیپ مشرا نے کشواہا کے اوپر الزام لگایا کہ کس طرح دو موقعوں پر انہوں نے کشواہا کے دہلی کے پارلیمنٹ میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں 90 لاکھ جمع کروائے۔پردیپ شرما نے کہا کہ انہوں نے اوپیندر کشواہا کے لئے گزشتہ سال گاندھی میدان میں تعلیم ریلی منعقد کی تھی جس میں ان کے 55 لاکھ خرچ ہوئے۔ساتھ ہی پردیپ شرما نے یہ بھی الزام لگایا کہ گزشتہ 5 سالوں میں مختلف موقعوں پر انہوں نے پارٹی کے لئے 15 کروڑ خرچ کئے ہیں۔پردیپ مشرا نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے مختلف موقعوں پر اوپیندر کشواہا اور ان کے خاندان والوں کے لئے دبئی، ملائیشیا اور سنگاپور میں غیر ملکی دوروں کا اہتمام کیا،اگرچہ ناگمنی اور پردیپ مشرا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اوپیندر کشواہا نے طنز کستے ہوئے کہا کہ دونوں لیڈر اب جے ڈی یو میں شامل ہو گئے ہیں اس لئے انہیں وزیر اعلی نتیش کمار سے کہہ کر ان کے خلاف سی بی آئی کی جانچ کروا دینی چاہئے۔اوپیندر کشواہا نے کہا کہ وہ خود چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف جو بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، اس کا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہئے اور سچائی عوام کے درمیان آنی چاہئے۔


Share: